اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کریمہ اہل بیت(ع) حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے شب وفات پر قم میں آپ کے حرم مطہر میں عزاداری اور مجالس عزا کا سلسلہ جاری رہا۔
حرم مطہر کے امام خمینی(رہ) ہال میں گزشتہ شب ہوئی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر رفیعی نے بی بی معصومہ (س) کے مقام و منزلت پر روشنی ڈالی ۔
انہوں نے کہا کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا امام موسی کاظم علیہ السلام کی اولاد میں ایک خاص مقام و منزلت کی حامل ہیں اسی بنا پر امام رضا علیہ السلام نے آپ کی زیارت کے حوالے سے خاص تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ان کی زیارت کرے گویا اس نے میری زیارت کی۔
ڈاکٹر رفیعی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امام زادہ کی زیارت کا امام معصوم کی زیارت کے برابر ہونا حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے بلند مقام کی عکاسی کرتا ہے کہا: حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت قم میں ہمیشہ شیعوں، علما اور بزرگوں کی پناھگاہ رہی ہے ۔
انہوں نے حضرت معصومہ (س) کی صفت کریمہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی ایک صفت کریم ہے۔ کریم اسے کہتے ہیں جو جلد درگزشت کرنے والا ہو، غلطیوں سے چشم پوشی کرے، انسان کی برائی کی طرف نگاہ نہ کرے اور انسان کی جلد حاجت روائی کر دے۔
ڈاکٹر رفیعی نے روایات کی بنا پر بیان کیا کہ تین گروہ ایسے ہیں جو لوگوں کے ساتھ مقابلہ بالمثل نہیں کرتے ایک عقلاء کا گروہ ہے جو جہلا کے ساتھ مقابلہ بالمثل نہیں کرتا۔ نیک لوگوں کا گروہ بد لوگوں کے ساتھ مقابلہ بالمثل نہیں کرتا۔
حجۃ الاسلام رفیعی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ کریم انسان پست و ذلیل انسان کے ساتھ مقابلہ بالمثل نہیں کرتا، کہا: بہت سارے علماء اور بزرگ شخصیات اپنی حاجتوں اور مشکلات کو بی بی کے پاس بیان کرتے ہیں اور یہ بی بی تمام مشکلات کی رہگشاہ ہیں۔
انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی کے وصیت نامہ کی بنیاد پر کامیابی کی راہوں کو بیان کرتے ہوئے کہا: انسان کی کامیابی کا ایک راستہ قرآن کریم کے ساتھ انسیت ہے۔ امام زمانہ (ع) سے رابطہ قائم کرنا، ان کی زیارت کرنا اس مرجع تقلید کے وصیت نامہ کے مطابق انسان کی کامیابی کا دوسرا راستہ ہے۔
انہوں نے صفت کریم کے بارے میں مزید بیان کرتے ہوئے کہا کہ کریم وہ ہے جو برائی کا جواب نیکی سے دیتا ہے انسان کی حاجت کو بنا مانگے پوری کرتا ہے اور حضرت فاطمہ معصومہ (ع) اسی وجہ سے کریمہ اہل بیت(ع) ہیں۔
ڈاکٹر رفیعی نے آخر میں پیغمبر اکرم کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: نبی اکرم نے فرمایا ہے کہ میں قیامت کے دن چار گروہوں کی شفاعت کروں گا؛ پہلا گروہ وہ ہے جو میرے اہل بیت(ع) کی نصرت کرے، دوسرا گروہ وہ ہے جو ان کی منشاء کے مطابق چلے، تیسرا گروہ وہ جو دل و جان سے انہیں دوست رکھے اور چوتھا گروہ وہ ہے جو ان کی ہر حال میں حمایت کرے۔
...................
242